حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن مسلم، عن مسروق، عن عبد الله رضي الله عنه: ان قريشا لما ابطئوا على النبي صلى الله عليه وسلم بالإسلام، قال:" اللهم اكفنيهم بسبع كسبع يوسف"، فاصابتهم سنة حصت كل شيء، حتى اكلوا العظام، حتى جعل الرجل ينظر إلى السماء فيرى بينه وبينها مثل الدخان، قال الله: فارتقب يوم تاتي السماء بدخان مبين سورة الدخان آية 10، قال الله: إنا كاشفو العذاب قليلا إنكم عائدون سورة الدخان آية 15، افيكشف عنهم العذاب يوم القيامة، وقد مضى الدخان، ومضت البطشة؟.
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے مسلم نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ قریش نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے میں تاخیر کی تو آپ نے ان کے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ! ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانہ کا سا قحط نازل فرما۔ چنانچہ ایسا قحط پڑا کہ کوئی چیز نہیں ملتی تھی اور وہ ہڈیوں کے کھانے پر مجبور ہو گئے تھے۔ لوگوں کی اس وقت یہ کیفیت تھی کہ آسمان کی طرف نظر اٹھا کے دیکھتے تھے تو بھوک و پیاس کی شدت سے دھواں سا نظر آتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين» ”تو آپ انتظار کیجئے اس روز کا جب آسمان کی طرف ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو۔“ اور فرمایا «إنا كاشفو العذاب قليلا إنكم عائدون» ”بیشک ہم اس عذاب کو ہٹا لیں گے اور تم بھی (اپنی پہلی حالت پر) لوٹ آؤ گے۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا کہ عذاب سے یہی قحط کا عذاب مراد ہے کیونکہ آخرت کا عذاب کافروں سے ٹلنے والا نہیں ہے۔