حدثنا يعقوب بن إبراهيم، حدثنا ابن علية، حدثنا عبد العزيز بن صهيب، قال: قال انس بن مالك رضي الله عنه:" ما كان لنا خمر غير فضيخكم، هذا الذي تسمونه الفضيخ، فإني لقائم اسقي ابا طلحة، وفلانا، وفلانا، إذ جاء رجل، فقال: وهل بلغكم الخبر؟ فقالوا: وما ذاك؟ قال: حرمت الخمر، قالوا: اهرق هذه القلال يا انس، قال: فما سالوا عنها ولا راجعوها بعد خبر الرجل".
ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن علیہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہم لوگ تمہاری «فضيخ» (کھجور سے بنائی ہوئی شراب) کے سوا اور کوئی شراب استعمال نہیں کرتے تھے، یہی جس کا نام تم نے «فضيخ» رکھ رکھا ہے۔ میں کھڑا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو پلا رہا تھا اور فلاں اور فلاں کو، کہ ایک صاحب آئے اور کہا: تمہیں کچھ خبر بھی ہے؟ لوگوں نے پوچھا کیا بات ہے؟ انہوں نے بتایا کہ شراب حرام قرار دی جا چکی ہے۔ فوراً ہی ان لوگوں نے کہا: انس رضی اللہ عنہ اب ان شراب کے مٹکوں کو بہا دو۔ انہوں نے بیان کیا کہ ان کی اطلاع کے بعد ان لوگوں نے اس میں سے ایک قطرہ بھی نہ مانگا اور نہ پھر اس کا استعمال کیا۔