حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا إبراهيم بن سعد، حدثنا ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب وابي سلمة بن عبد الرحمن عن ابي هريرة رضي الله عنه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا اراد ان يدعو على احد، او يدعو لاحد، قنت بعد الركوع، فربما قال إذا قال:"سمع الله لمن حمده، اللهم ربنا لك الحمد، اللهم انج الوليد بن الوليد، وسلمة بن هشام، وعياش بن ابي ربيعة، اللهم اشدد وطاتك على مضر، واجعلها سنين كسني يوسف" يجهر بذلك، وكان يقول في بعض صلاته في صلاة الفجر:" اللهم العن فلانا وفلانا لاحياء من العرب"، حتى انزل الله ليس لك من الامر شيء سورة آل عمران آية 128 الآية".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی پر بددعا کرنا چاہتے یا کسی کے لیے دعا کرنا چاہتے تو رکوع کے بعد کرتے «سمع الله لمن حمده، اللهم ربنا لك الحمد» کے بعد۔ بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا بھی کی ”اے اللہ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ کو نجات دے، اے اللہ! مضر والوں کو سختی کے ساتھ پکڑ لے اور ان میں ایسی قحط سالی لا، جیسی یوسف علیہ السلام کے زمانے میں ہوئی تھی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے یہ دعا کرتے اور آپ نماز فجر کی بعض رکعت میں یہ دعا کرتے۔ اے اللہ، فلاں اور فلاں کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔ عرب کے چند خاص قبائل کے حق میں آپ (یہ بددعا کرتے تھے) یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی «ليس لك من الأمر شىء» کہ ”آپ کو اس امر میں کوئی دخل نہیں۔“