كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

حدثنا قتيبة بن سعيد , حدثنا جرير , عن مطرف , عن الشعبي، عن عدي بن حاتم رضي الله عنه , قال: قلت: يا رسول الله , ما الخيط الابيض من الخيط الاسود اهما الخيطان؟ قال:" إنك لعريض القفا إن ابصرت الخيطين، ثم قال" لا، بل هو سواد الليل وبياض النهار".

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، ان سے مطرف نے بیان کیا، ان سے شعبی نے بیان کیا اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! (آیت میں) «الخيط الأبيض» اور «الخيط الأسود» سے کیا مراد ہے؟ کیا ان سے مراد دو دھاگے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری کھوپڑی پھر تو بڑی لمبی چوڑی ہو گی۔ اگر تم نے رات کو دو دھاگے دیکھے ہیں۔ پھر فرمایا کہ ان سے مراد رات کی سیاہی اور صبح کی سفیدی ہے۔

صحيح البخاري # 4510
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp