حدثني محمد , حدثنا عبد الرحمن بن مهدي , عن ابن المبارك , عن معمر , عن همام بن منبه , عن ابي هريرة رضي الله عنه , عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" قيل لبني إسرائيل وادخلوا الباب سجدا وقولوا حطة سورة البقرة آية 58، فدخلوا يزحفون على استاههم فبدلوا، وقالوا حطة حبة في شعرة".
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے، ان سے عبداللہ بن مبارک نے، ان سے معمر نے، ان سے ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو یہ حکم ہوا تھا کہ شہر کے دروازے میں جھکتے ہوئے داخل ہوں اور «حطة» کہتے ہوئے (یعنی) ”اے اللہ! ہمارے گناہ معاف کر دے۔“ لیکن وہ الٹے چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور کلمہ «حطة» کو بھی بدل دیا اور کہا کہ «حبة في شعرة» یعنی دل لگی کے طور پر کہنے لگے کہ ”دانہ بال کے اندر ہونا چاہیے۔“