كِتَاب الْمَغَازِي کتاب: غزوات کے بیان میں

حدثني إبراهيم بن المنذر، اخبرنا انس بن عياض، حدثنا موسى بن عقبة، عن نافع، ان ابن عمر اخبره، ان حفصة رضي الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم اخبرته: ان النبي صلى الله عليه وسلم:" امر ازواجه ان يحللن عام حجة الوداع"، فقالت حفصة: فما يمنعك؟ فقال:" لبدت راسي، وقلدت هديي، فلست احل حتى انحر هديي".

مجھ سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم کو انس بن عیاض نے خبر دی، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی بیویوں کو حکم دیا کہ (عمرہ کرنے کے بعد) حلال ہو جائیں (یعنی احرام کھول دیں) حفصہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا (یا رسول اللہ!) پھر آپ کیوں نہیں حلال ہوتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تو اپنے بالوں کو جما لیا ہے اور اپنی قربانی کو ہار پہنا دیا ہے، اس لیے میں جب تک قربانی نہ کر لوں اس وقت تک احرام نہیں کھول سکتا۔

صحيح البخاري # 4398
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp