حدثني عمرو بن علي، حدثنا ابو عاصم، حدثنا سفيان، حدثنا ابو صخرة جامع بن شداد، حدثنا صفوان بن محرز المازني، حدثنا عمران بن حصين، قال: جاءت بنو تميم إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:" ابشروا يا بني تميم"، قالوا: اما إذ بشرتنا فاعطنا، فتغير وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فجاء ناس من اهل اليمن، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" اقبلوا البشرى إذ لم يقبلها بنو تميم"، قالوا: قد قبلنا يا رسول الله.
مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا۔ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوصخرہ جامع بن شداد نے بیان کیا، کہا ہم سے صفوان بن محرز مازنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ بنو تمیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے بنو تمیم! بشارت قبول کرو۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ نے ہمیں بشارت دی ہے تو کچھ روپے بھی عنایت فرمائیے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پھر یمن کے کچھ اشعری لوگ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے بشارت قبول نہیں کی، یمن والو! تم قبول کر لو۔ وہ بولے ہم نے قبول کی یا رسول اللہ۔