حدثنا المكي بن إبراهيم، عن ابن جريج، قال عطاء، قال جابر: امر النبي صلى الله عليه وسلم عليا ان يقيم على إحرامه، زاد محمد بن بكر، عن ابن جريج، قال عطاء: قال جابر: فقدم علي بن ابي طالب رضي الله عنه بسعايته، قال له النبي صلى الله عليه وسلم:" بم اهللت يا علي؟" قال: بما اهل به النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" فاهد وامكث حراما كما انت"، قال: واهدى له علي هديا.
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے کہ عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے (جب وہ یمن سے مکہ آئے) فرمایا تھا کہ وہ اپنے احرام پر باقی رہیں۔ محمد بن بکر نے ابن جریج سے اتنا بڑھایا کہ ان سے عطاء نے بیان کیا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا علی رضی اللہ عنہ اپنی ولایت (یمن) سے آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ علی! تم نے احرام کس طرح باندھا ہے؟ عرض کیا کہ جس طرح احرام آپ نے باندھا ہو۔ فرمایا پھر قربانی کا جانور بھیج دو اور جس طرح احرام باندھا ہے، اسی کے مطابق عمل کرو۔ بیان کیا کہ علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قربانی کے جانور لائے تھے۔