كِتَاب الْمَغَازِي کتاب: غزوات کے بیان میں

حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن ابي التياح، عن انس، قال: لما كان يوم فتح مكة قسم رسول الله صلى الله عليه وسلم غنائم بين قريش، فغضبت الانصار، قال النبي صلى الله عليه وسلم:" اما ترضون ان يذهب الناس بالدنيا وتذهبون برسول الله صلى الله عليه وسلم؟" قالوا: بلى، قال:" لو سلك الناس واديا او شعبا لسلكت وادي الانصار او شعبهم".

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابوالتیاح نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش میں (حنین کی) غنیمت کی تقسیم کر دی۔ انصار رضی اللہ عنہم اس سے رنجیدہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ دوسرے لوگ دنیا اپنے ساتھ لے جائیں اور تم اپنے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے جاؤ۔ انصار نے عرض کیا کہ ہم اس پر خوش ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ دوسرے کسی وادی یا گھاٹی میں رہیں تو میں انصار کی وادی یا گھاٹی میں رہوں گا۔

صحيح البخاري # 4332
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp