كِتَاب الْمَغَازِي کتاب: غزوات کے بیان میں

حدثنا يعقوب بن إبراهيم، حدثنا إسماعيل، حدثنا ابن جريج، قال: اخبرني عطاء، ان صفوان بن يعلى بن امية اخبره، ان يعلى كان يقول: ليتني ارى رسول الله صلى الله عليه وسلم حين ينزل عليه، قال: فبينا النبي صلى الله عليه وسلم بالجعرانة وعليه ثوب قد اظل به معه فيه ناس من اصحابه إذ جاءه اعرابي عليه جبة متضمخ بطيب، فقال: يا رسول الله، كيف ترى في رجل احرم بعمرة في جبة بعد ما تضمخ بالطيب؟ فاشار عمر إلى يعلى بيده ان تعال، فجاء يعلى فادخل راسه، فإذا النبي صلى الله عليه وسلم محمر الوجه يغط كذلك ساعة، ثم سري عنه، فقال:" اين الذي يسالني عن العمرة آنفا؟" فالتمس الرجل، فاتي به فقال:" اما الطيب الذي بك، فاغسله ثلاث مرات، واما الجبة فانزعها، ثم اصنع في عمرتك كما تصنع في حجك".

ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم بن علیہ نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا مجھ کو عطا بن ابی رباح نے خبر دی، انہیں صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے خبر دی کہ یعلیٰ نے کہا کاش میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھ سکتا جب آپ پر وحی نازل ہوتی ہے۔ بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ آپ کے لیے ایک کپڑے سے سایہ کر دیا گیا تھا اور اس میں چند صحابہ رضی اللہ عنہم بھی آپ کے ساتھ موجود تھے۔ اتنے میں ایک اعرابی آئے وہ ایک جبہ پہنے ہوئے تھے، خوشبو میں بسا ہوا۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک ایسے شخص کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہے جو اپنے جبہ میں خوشبو لگانے کے بعد احرام باندھے؟ فوراً ہی عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ رضی اللہ عنہ کو آنے کے لیے ہاتھ سے اشارہ کیا۔ یعلیٰ رضی اللہ عنہ حاضر ہو گئے اور اپنا سر (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے لیے) اندر کیا (نزول وحی کی کیفیت سے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک سرخ ہو رہا تھا اور زور زور سے سانس چل رہی تھی۔ تھوڑی دیر تک یہی کیفیت رہی پھر ختم ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ ابھی عمرہ کے متعلق جس نے سوال کیا تھا وہ کہاں ہے؟ انہیں تلاش کر کے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو خوشبو تم نے لگا رکھی ہے اسے تین مرتبہ دھو لو اور جبہ اتار دو اور پھر عمرہ میں وہی کام کرو جو حج میں کرتے ہو۔

صحيح البخاري # 4329
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp