كِتَاب الْمَغَازِي کتاب: غزوات کے بیان میں

حدثنا إسحاق، حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، قال: اخبرني حسن بن مسلم، عن مجاهد: ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قام يوم الفتح، فقال:" إن الله حرم مكة يوم خلق السموات والارض، فهي حرام بحرام الله إلى يوم القيامة، لم تحل لاحد قبلي ولا تحل لاحد بعدي، ولم تحلل لي قط إلا ساعة من الدهر لا ينفر صيدها، ولا يعضد شوكها، ولا يختلى خلاها، ولا تحل لقطتها إلا لمنشد"، فقال العباس بن عبد المطلب: إلا الإذخر يا رسول الله، فإنه لا بد منه للقين والبيوت، فسكت، ثم قال:" إلا الإذخر، فإنه حلال"، وعن ابن جريج، اخبرني عبد الكريم، عن عكرمة، عن ابن عباس بمثل هذا او نحو هذا، رواه ابو هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم.

ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نبیل نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا مجھ کو حسن بن مسلم نے خبر دی اور انہیں مجاہد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن خطبہ سنانے کھڑے ہوئے اور فرمایا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا تھا، اسی دن اس نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دے دیا تھا۔ پس یہ شہر اللہ کے حکم کے مطابق قیامت تک کے لیے حرمت والا رہے گا۔ جو مجھ سے پہلے کبھی کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور نہ میرے بعد کسی کے لیے حلال ہو گا اور میرے لیے بھی صرف ایک گھڑی کے لیے حلال ہوا تھا۔ یہاں حدود حرم میں شکار کے قابل جانور نہ چھیڑے جائیں۔ یہاں کے کانٹے دار درخت نہ کاٹے جائیں نہ یہاں کی گھاس اکھاڑی جائے اور یہاں پر گری پڑی چیز اس شخص کے سوا جو اعلان کرنے کا ارادہ رکھتا ہو اور کسی کے لیے اٹھانی جائز نہیں۔ اس پر عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ نے کہا: یا رسول اللہ! اذخر (گھاس) کی اجازت دے دیجئیے کیونکہ سناروں کے لیے اور مکانات (کی تعمیر وغیرہ) کے لیے یہ ضروری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے پھر فرمایا اذخر اس حکم سے الگ ہے اس کا (کاٹنا) حلال ہے۔ دوسری روایت ابن جریج سے (اسی سند سے) ایسی ہی ہے انہوں نے عبدالکریم بن مالک سے، انہوں نے ابن عباس سے اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی روایت کی ہے۔

صحيح البخاري # 4313
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp