كِتَاب الْمَغَازِي کتاب: غزوات کے بیان میں

حدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا ابن عيينة، عن ابن ابي نجيح، عن مجاهد، عن ابي معمر، عن عبد الله رضي الله عنه، قال: دخل النبي صلى الله عليه وسلم مكة يوم الفتح، وحول البيت ستون وثلاث مائة نصب، فجعل يطعنها بعود في يده، ويقول:" جاء الحق وزهق الباطل، جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد".

ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو سلیمان بن عیینہ نے خبر دی ‘ انہیں ابن ابی نجیح نے ‘ انہیں مجاہد نے ‘ انہیں ابومعمر نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے دن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو بیت اللہ کے چاروں طرف تین سو ساٹھ بت تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک چھڑی سے جو دست مبارک میں تھی ‘ مارتے جاتے تھے اور اس آیت کی تلاوت کرتے جاتے «جاء الحق وزهق الباطل،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ جاء الحق،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وما يبدئ الباطل وما يعيد» کہ حق قائم ہو گیا اور باطل مغلوب ہو گیا ‘ حق قائم ہو گیا اور باطل سے نہ شروع میں کچھ ہو سکا ہے نہ آئندہ کچھ ہو سکتا ہے۔

صحيح البخاري # 4287
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp