كِتَاب الْمَغَازِي کتاب: غزوات کے بیان میں

ثم قال:" لا يرث المؤمن الكافر، ولا يرث الكافر المؤمن"، قيل للزهري: ومن ورث ابا طالب؟ قال: ورثه عقيل، وطالب، قال معمر، عن الزهري: اين تنزل غدا في حجته؟ ولم يقل يونس حجته، ولا زمن الفتح.

‏‏‏‏ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن ‘ کافر کا وارث نہیں ہو سکتا اور نہ کافر مومن کا وارث ہو سکتا ہے۔ زہری سے پوچھا گیا کہ پھر ابوطالب کی وراثت کسے ملی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ ان کے وارث عقیل اور طالب ہوئے تھے۔ معمر نے زہری سے (اسامہ رضی اللہ عنہ کا سوال یوں نقل کیا ہے کہ) آپ اپنے حج کے دوران کہاں قیام فرمائیں گے؟ اور یونس نے (اپنی روایت میں) نہ حج کا ذکر کیا ہے اور نہ فتح مکہ کا۔

صحيح البخاري # 4283
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp