حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد هو ابن زيد، عن ايوب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه، فقال المشركون: إنه يقدم عليكم وفد وهنهم حمى يثرب، وامرهم النبي صلى الله عليه وسلم ان يرملوا الاشواط الثلاثة، وان يمشوا ما بين الركنين، ولم يمنعه ان يامرهم ان يرملوا الاشواط كلها إلا الإبقاء عليهم"، قال ابو عبد الله: وزاد ابن سلمة،عن ايوب، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال: لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم لعامه الذي استامن , قال:" ارملوا ليرى المشركون قوتهم، والمشركون من قبل قعيقعان".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ (عمرہ کے لیے مکہ) تشریف لائے تو مشرکین نے کہا کہ تمہارے یہاں وہ لوگ آ رہے ہیں جنہیں یثرب (مدینہ) کے بخار نے کمزور کر دیا ہے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ طواف کے پہلے تین چکروں میں اکڑ کر چلا جائے اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان حسب معمول چلیں۔ تمام چکروں میں اکڑ کر چلنے کا حکم آپ نے اس لیے نہیں دیا کہ کہیں یہ (امت پر) دشوار نہ ہو جائے۔ اور حماد بن سلمہ نے ایوب سے اس حدیث کو روایت کر کے یہ اضافہ کیا ہے۔ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سال عمرہ کرنے آئے جس میں مشرکین نے آپ کو امن دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اکڑ کر چلو تاکہ مشرکین تمہاری قوت کو دیکھیں۔ مشرکین جبل قعیقعان کی طرف کھڑے دیکھ رہے تھے۔