حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال: سمعت الزهري، وساله إسماعيل بن امية، قال: اخبرني عنبسة بن سعيد، ان ابا هريرة رضي الله عنه , اتى النبي صلى الله عليه وسلم فساله، قال له بعض بني سعيد بن العاص: لا تعطه، فقال ابو هريرة: هذا قاتل ابن قوقل، فقال: واعجباه لوبر تدلى من قدوم الضان.
مجھ سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے زہری سے سنا اور ان سے اسماعیل بن امیہ نے سوال کیا تھا تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھے عنبسہ بن سعید نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے (خیبر کی غنیمت میں سے) حصہ مانگا۔ سعید بن عاص کے ایک لڑکے (ابان بن سعید رضی اللہ عنہ) نے کہا: یا رسول اللہ! انہیں نہ دیجئیے۔ اس پر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ شخص تو ابن قوقل کا قاتل ہے۔ ابان رضی اللہ عنہ اس پر بولے حیرت ہے اس «وبر» (بلی سے چھوٹا ایک جانور) پر جو قدوم الضان پہاڑی سے اتر آیا ہے۔