حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عباد، عن الشيباني، قال: سمعت ابن ابي اوفى رضي الله عنهما، اصابتنا مجاعة يوم خيبر، فإن القدور لتغلي، قال: وبعضها نضجت، فجاء منادي النبي صلى الله عليه وسلم:" لا تاكلوا من لحوم الحمر شيئا واهرقوها"، قال ابن ابي اوفى: فتحدثنا انه إنما نهى عنها لانها لم تخمس، وقال بعضهم: نهى عنها البتة لانها كانت تاكل العذرة.
ہم سے سعید بن سلیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عباد نے بیان کیا ‘ ان سے شیبانی نے بیان کیا اور انہوں نے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے سنا کہ غزوہ خیبر میں ایک موقع پر ہم بہت بھوکے تھے ‘ ادھر ہانڈیوں میں ابال آ رہا تھا (گدھے کا گوشت پکایا جا رہا تھا) اور کچھ پک بھی گئیں تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ گدھے کے گوشت کا ایک ذرہ بھی نہ کھاؤ اور اسے پھینک دو۔ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر بعض لوگوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت اس لیے کی ہے کہ ابھی اس میں سے خمس نہیں نکالا گیا تھا اور بعض لوگوں کا خیال تھا کہ آپ نے اس کی واقعی ممانعت (ہمیشہ کے لیے) کر دی ہے ‘ کیونکہ یہ گندگی کھاتا ہے۔