كِتَاب الْمَغَازِي کتاب: غزوات کے بیان میں

حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، حدثنا عبد الوهاب، حدثنا ايوب، عن محمد، عن انس بن مالك رضي الله عنه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جاءه جاء , فقال: اكلت الحمر؟ فسكت، ثم اتاه الثانية , فقال: اكلت الحمر؟، فسكت، ثم اتاه الثالثة , فقال: افنيت الحمر؟ فامر مناديا فنادى في الناس:" إن الله ورسوله ينهيانكم عن لحوم الحمر الاهلية"، فاكفئت القدور وإنها لتفور باللحم.

ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے محمد نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آنے والے نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ گدھے کا گوشت کھایا جا رہا ہے۔ اس پر آپ نے خاموشی اختیار کی پھر دوبارہ وہ حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ گدھے کا گوشت کھایا جا رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ بھی خاموش رہے ‘ پھر وہ تیسری مرتبہ آئے اور عرض کیا کہ گدھے ختم ہو گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی سے اعلان کرایا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھوں کے گوشت کے کھانے سے منع کرتے ہیں۔ چنانچہ تمام ہانڈیاں الٹ دی گئیں حالانکہ وہ گوشت کے ساتھ جوش مار رہی تھیں۔

صحيح البخاري # 4199
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp