حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن حميد الطويل، عن انس رضي الله عنه، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتى خيبر ليلا، وكان إذا اتى قوما بليل لم يغر بهم حتى يصبح، فلما اصبح خرجت اليهود بمساحيهم ومكاتلهم، فلما راوه قالوا: محمد والله محمد والخميس، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" خربت خيبر، إنا إذا نزلنا بساحة قوم فساء صباح المنذرين".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ‘ انہیں حمید طویل نے اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خیبر رات کے وقت پہنچے۔ آپ کا قاعدہ تھا کہ جب کسی قوم پر حملہ کرنے کے لیے رات کے وقت موقع پر پہنچتے تو فوراً ہی حملہ نہیں کرتے بلکہ صبح ہو جاتی جب کرتے۔ چنانچہ صبح کے وقت یہودی اپنے کلہاڑے اور ٹوکرے لے کر باہر نکلے لیکن جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو شور کرنے لگے کہ محمد ‘ اللہ کی قسم! محمد لشکر لے کر آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیبر برباد ہوا ‘ ہم جب کسی قوم کے میدان میں اتر جاتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہو جاتی ہے۔