كِتَاب الْمَغَازِي کتاب: غزوات کے بیان میں

حدثني محمد بن هشام ابو عبد الله , حدثنا هشيم , عن ابي بشر , عن مجاهد , عن عبد الرحمن بن ابي ليلى , عن كعب بن عجرة , قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالحديبية ونحن محرمون وقد حصرنا المشركون , قال: وكانت لي وفرة فجعلت الهوام تساقط على وجهي , فمر بي النبي صلى الله عليه وسلم , فقال:" ايؤذيك هوام راسك؟" قلت: نعم , قال: وانزلت هذه الآية: فمن كان منكم مريضا او به اذى من راسه ففدية من صيام او صدقة او نسك سورة البقرة آية 196.

مجھ سے ابوعبداللہ محمد بن ہشام نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا ان سے ابوبشر نے ‘ ان سے مجاہد نے ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے۔ ادھر مشرکین ہمیں بیت اللہ تک جانے نہیں دینا چاہتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میرے سر پر بال بڑے بڑے تھے جن سے جوئیں میرے چہرے پر گرنے لگیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھ کر دریافت فرمایا کہ کیا یہ جوئیں تکلیف دے رہی ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر یہ آیت نازل ہوئی «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه ففدية من صيام أو صدقة أو نسك‏» پس اگر تم میں کوئی مریض ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف دینے والی چیز ہو تو اسے (بال منڈوا لینے چاہئیں اور) تین دن کے روزے یا صدقہ یا قربانی کا فدیہ دینا چاہیے۔

صحيح البخاري # 4191
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp