كِتَاب الْمَغَازِي کتاب: غزوات کے بیان میں

حدثنا عبد الله بن محمد بن اسماء , حدثنا جويرية , عن نافع , ان عبيد الله بن عبد الله , وسالم بن عبد الله اخبراه , انهما كلما عبد الله بن عمر. ح وحدثنا موسى بن إسماعيل , حدثنا جويرية , عن نافع , ان بعض بني عبد الله , قال له: لو اقمت العام فإني اخاف ان لا تصل إلى البيت , قال: خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم فحال كفار قريش دون البيت , فنحر النبي صلى الله عليه وسلم هداياه وحلق وقصر اصحابه , وقال:" اشهدكم اني اوجبت عمرة فإن خلي بيني وبين البيت طفت وإن حيل بيني وبين البيت" , صنعت كما صنع رسول الله صلى الله عليه وسلم , فسار ساعة , ثم قال: ما ارى شانهما إلا واحدا اشهدكم اني قد اوجبت حجة مع عمرتي فطاف طوافا واحدا وسعيا واحدا حتى حل منهما جميعا".

ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ‘ انہیں نافع نے ‘ ان کو عبیداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ ان دونوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گفتگو کی (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے جویریہ نے بیان کیا اور ان سے نافع نے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے کسی لڑکے نے ان سے کہا ‘ اگر اس سال آپ (عمرہ کرنے) نہ جاتے تو بہتر تھا کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ آپ بیت اللہ تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تھے تو کفار قریش نے بیت اللہ پہنچنے سے روک دیا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانی کے جانور وہیں (حدیبیہ میں) ذبح کر دیئے اور سر کے بال منڈوا دیئے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے بھی بال چھوٹے کروا لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر ایک عمرہ واجب کر لیا ہے (اور اسی طرح تمام صحابہ رضی اللہ عنہم پر بھی وہ واجب ہو گیا) اگر آج مجھے بیت اللہ تک جانے دیا گیا تو میں طواف کر لوں گا اور اگر مجھے روک دیا گیا تو میں بھی وہی کروں گا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا۔ پھر تھوڑی دور چلے اور کہا کہ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنے اوپر عمرہ کے ساتھ حج کو بھی ضروری قرار دے لیا ہے اور کہا میری نظر میں تو حج اور عمرہ دونوں ایک ہی جیسے ہیں ‘ پھر انہوں نے ایک طواف کیا اور ایک سعی کی (جس دن مکہ پہنچے) اور دونوں ہی کو پورا کیا۔

صحيح البخاري # 4185
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp