كِتَاب الْمَغَازِي کتاب: غزوات کے بیان میں

حدثني احمد بن إسحاق , حدثنا عثمان بن عمر , اخبرنا شعبة , عن قتادة , عن انس بن مالك رضي الله عنه: إنا فتحنا لك فتحا مبينا سورة الفتح آية 1 , قال: الحديبية , قال اصحابه: هنيئا مريئا سورة النساء آية 4 فما لنا , فانزل الله: ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات تجري من تحتها الانهار سورة الفتح آية 5 , قال شعبة: فقدمت الكوفة فحدثت بهذا كله عن قتادة , ثم رجعت فذكرت له , فقال: اما إنا فتحنا لك سورة الفتح آية 1, فعن انس , واما هنيئا مريئا سورة النساء آية 4 فعن عكرمة".

مجھ سے احمد بن اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ انہیں قتادہ نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ (آیت) «إنا فتحنا لك فتحا مبينا‏» بیشک ہم نے تمہیں کھلی ہوئی فتح دی۔ یہ فتح صلح حدیبیہ تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو مرحلہ آسان ہے (کہ آپ کی تمام اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف ہو چکی ہیں) لیکن ہمارا کیا ہو گا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات‏» اس لیے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں جنت میں داخل کی جائیں گی جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ شعبہ نے بیان کیا کہ پھر میں کوفہ آیا اور میں قتادہ سے پورا واقعہ بیان کیا ‘ پھر میں دوبارہ قتادہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ «إنا فتحنا لك‏» بیشک ہم نے تمہیں کھلی فتح دی ہے۔ کی تفسیر تو انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے لیکن اس کے بعد «هنيئا مريئا» (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو ہر مرحلہ آسان ہے) یہ تفسیر عکرمہ سے منقول ہے۔

صحيح البخاري # 4172
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp