حدثنا الحسن بن خلف , قال: حدثنا إسحاق بن يوسف , عن ابي بشر ورقاء , عن ابن ابي نجيح , عن مجاهد , قال: حدثني عبد الرحمن بن ابي ليلى , عن كعب بن عجرة , ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رآه وقمله يسقط على وجهه , فقال:" ايؤذيك هوامك" , قال: نعم , فامره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يحلق وهو بالحديبية لم يبين لهم انهم يحلون بها وهم على طمع ان يدخلوا مكة , فانزل الله الفدية , فامره رسول الله صلى الله عليه وسلم ان يطعم فرقا بين ستة مساكين , او يهدي شاة , او يصوم ثلاثة ايام.
ہم سے حسن بن خلف نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے اسحاق بن یوسف نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبشر ورقاء بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی نجیح نے ‘ ان سے مجاہد نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا اس سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے؟ وہ بولے کہ جی ہاں ‘ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈوانے کا حکم دیا۔ آپ اس وقت حدیبیہ میں تھے (عمرہ کے لیے احرام باندھے ہوئے) اور ان کو یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ وہ عمرہ سے روکے جائیں گے۔ حدیبیہ ہی میں ان کو احرام کھول دینا پڑے گا۔ بلکہ ان کی تو یہ آرزو تھی کہ مکہ میں کسی طرح داخل ہوا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم نازل فرمایا (یعنی احرام کی حالت میں) سر منڈوانے وغیرہ پر ‘ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب کو حکم دیا کہ ایک فرق اناج چھ مسکینوں کو کھلا دیں یا ایک بکری کی قربانی کریں یا تین دن روزے رکھیں۔