كِتَاب الْمَغَازِي کتاب: غزوات کے بیان میں

حدثني يحيى , حدثنا وكيع , عن نافع بن عمر , عن ابن ابي مليكة , عن عائشة رضي الله عنها:" كانت تقرا إذ تلقونه بالسنتكم سورة النور آية 15 وتقول الولق الكذب. قال ابن ابي مليكة: وكانت اعلم من غيرها بذلك لانه نزل فيها.

مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ ان سے نافع بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا (سورۃ النور کی آیت میں) قرآت «إذ تلقونه بألسنتكم‏» کرتی تھیں اور (اس کی تفسیر میں) فرماتی تھیں کہ «الولق» جھوٹ کے معنی میں ہے۔ ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا ان آیات کو دوسروں سے زیادہ جانتی تھیں کیونکہ وہ خاص ان ہی کے باب میں اتری تھیں۔

صحيح البخاري # 4144
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp