وقال ابن إسحاق , سمعت وهب بن كيسان , سمعت جابرا:" خرج النبي صلى الله عليه وسلم إلى ذات الرقاع من نخل , فلقي جمعا من غطفان فلم يكن قتال واخاف الناس بعضهم بعضا , فصلى النبي صلى الله عليه وسلم ركعتي الخوف" , وقال يزيد: عن سلمة: غزوت مع النبي صلى الله عليه وسلم يوم القرد.
اور ابن اسحاق نے بیان کیا ‘ انہوں نے وہب بن کیسان سے سنا ‘ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ذات الرقاع کے لیے مقام نخل سے روانہ ہوئے تھے۔ وہاں آپ کا قبیلہ غطفان کی ایک جماعت سے سامنا ہوا لیکن کوئی جنگ نہیں ہوئی اور چونکہ مسلمانوں پر کفار کے (اچانک حملے کا) خطرہ تھا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز خوف پڑھائی۔ اور یزید نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذوالقرد میں شریک تھا۔