حدثني احمد بن عثمان , حدثنا شريح بن مسلمة , قال: حدثني إبراهيم بن يوسف , قال: حدثني ابي , عن ابي إسحاق , قال: سمعت البراء بن عازب , يحدث قال: لما كان يوم الاحزاب وخندق رسول الله صلى الله عليه وسلم رايته ينقل من تراب الخندق حتى وارى عني الغبار جلدة بطنه , وكان كثير الشعر فسمعته يرتجز بكلمات ابن رواحة وهو ينقل من التراب , يقول:" اللهم لولا انت ما اهتدينا , ولا تصدقنا ولا صلينا , فانزلن سكينة علينا وثبت الاقدام إن لاقينا , إن الاولى قد بغوا علينا , وإن ارادوا فتنة ابينا" , قال: ثم يمد صوته بآخرها.
مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ان سے ابواسحاق سبیعی نے کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا وہ بیان کرتے تھے کہ غزوہ احزاب کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ خندق کھودتے ہوئے اس کے اندر سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مٹی اٹھا اٹھا کر لا رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بطن مبارک کی کھال مٹی سے اٹ گئی تھی۔ آپ کے (سینے سے پیٹ تک) گھنے بالوں (کی ایک لکیر) تھی۔ میں نے خود سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابن رواحہ رضی اللہ عنہ کے رجزیہ اشعار مٹی اٹھاتے ہوئے پڑھ رہے تھے۔ ”اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہمیں سیدھا راستہ نہ ملتا نہ ہم صدقہ کرتے نہ نماز پڑھتے پس ہم پر تو اپنی طرف سے سکینت نازل فرما اور اگر ہمارا آمنا سامنا ہو جائے تو ہمیں ثابت قدمی عطا فرما۔ یہ لوگ ہمارے اوپر ظلم سے چڑھ آئے ہیں۔ جب یہ ہم سے کوئی فتنہ چاہتے ہیں تو ہم ان کی نہیں سنتے۔“ راوی نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آخری کلمات کو کھینچ کر پڑھتے تھے۔