كِتَاب الْمَغَازِي کتاب: غزوات کے بیان میں

حدثنا احمد بن يونس حدثنا زهير حدثنا الاعمش عن شقيق عن خباب رضي الله عنه قال هاجرنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ونحن نبتغي وجه الله، فوجب اجرنا على الله، فمنا من مضى او ذهب لم ياكل من اجره شيئا، كان منهم مصعب بن عمير قتل يوم احد، فلم يترك إلا نمرة كنا إذا غطينا بها راسه خرجت رجلاه، وإذا غطي بها رجلاه خرج راسه، فقال لنا النبي صلى الله عليه وسلم: «غطوا بها راسه، واجعلوا على رجليه الإذخر» . او قال: «القوا على رجليه من الإذخر» . ومنا من اينعت له ثمرته فهو يهدبها.

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے اور ان سے خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی اور ہمارا مقصد اس سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنا تھا۔ ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر ثواب دیتا۔ ہم میں سے بعض لوگ تو وہ تھے جو اللہ سے جا ملے اور (دنیا میں) انہوں نے اپنا کوئی ثواب نہیں دیکھا۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے تھے۔ غزوہ احد میں انہوں نے شہادت پائی اور ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز انہوں نے نہیں چھوڑی۔ اس چادر سے (کفن دیتے وقت) جب ہم ان کا سر چھپاتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں چھپاتے تو سر کھل جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا «غطوا بها رأسه،‏‏‏‏ واجعلوا على رجليه الإذخر» چادر سے سر چھپا دو اور پاؤں پر اذخر گھاس رکھ دو۔ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا «ألقوا على رجليه من الإذخر» یعنی ان کے پیروں پر اذخر گھاس ڈال دو۔ (دونوں جملوں کا مطلب ایک ہی ہے) اور ہم میں بعض وہ ہیں جنہیں ان کے اس عمل کا پھل (اسی دنیا میں) دے دیا گیا اور وہ اس سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

صحيح البخاري # 4082
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp