حدثني احمد بن ابي سريج , اخبرنا عبيد الله بن موسى , حدثنا شيبان , عن فراس , عن الشعبي , قال: حدثني جابر بن عبد الله رضي الله عنهما , ان اباه استشهد يوم احد وترك عليه دينا , وترك ست بنات , فلما حضر جزاز النخل قال: اتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: قد علمت ان والدي قد استشهد يوم احد وترك دينا كثيرا وإني احب ان يراك الغرماء , فقال:" اذهب فبيدر كل تمر على ناحية" , ففعلت ثم دعوته , فلما نظروا إليه كانهم اغروا بي تلك الساعة , فلما راى ما يصنعون اطاف حول اعظمها بيدرا ثلاث مرات , ثم جلس عليه , ثم قال:" ادع لي اصحابك" , فما زال يكيل لهم حتى ادى الله عن والدي امانته , وانا ارضى ان يؤدي الله امانة والدي ولا ارجع إلى اخواتي بتمرة , فسلم الله البيادر كلها وحتى إني انظر إلى البيدر الذي كان عليه النبي صلى الله عليه وسلم كانها لم تنقص تمرة واحدة.
ہم سے احمد بن ابی شریح نے بیان کیا، کہا ہم کو عبیداللہ بن موسیٰ نے خبر دی، ان سے شیبان نے بیان کیا، ان سے فراس نے، ان سے شعبی نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ ان کے والد (عبداللہ رضی اللہ عنہ) احد کی لڑائی میں شہید ہو گئے تھے اور قرض چھوڑ گئے تھے اور چھ لڑکیاں بھی۔ جب درختوں سے کھجور اتارے جانے کا وقت قریب آیا تو انہوں نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے، میرے والد صاحب احد کی لڑائی میں شہید ہو گئے اور قرض چھوڑ گئے ہیں، میں چاہتا تھا کہ قرض خواہ آپ کو دیکھ لیں (اور کچھ نرمی برتیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جاؤ اور ہر قسم کی کھجور کا الگ الگ ڈھیر لگا لو۔ میں نے حکم کے مطابق عمل کیا اور پھر آپ کو بلانے گیا۔ جب قرض خواہوں نے آپ کو دیکھا تو جیسے اس وقت مجھ پر اور زیادہ بھڑک اٹھے۔ (کیونکہ وہ یہودی تھے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کا یہ طرز عمل دیکھا تو آپ پہلے سب سے بڑے ڈھیر کے چاروں طرف تین مرتبہ گھومے۔ اس کے بعد اس پر بیٹھ گئے اور فرمایا اپنے قرض خواہوں کو بلا لاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر انہیں ناپ کے دیتے رہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے میرے والد کی طرف سے ان کی ساری امانت ادا کر دی۔ میں اس پر خوش تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے والد کی امانت ادا کرا دے اور میں اپنی بہنوں کے لیے ایک کھجور بھی نہ لے جاؤں لیکن اللہ تعالیٰ نے تمام دوسرے ڈھیر بچا دیئے بلکہ اس ڈھیر کو بھی جب دیکھا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ جیسے اس میں سے ایک کھجور کا دانہ بھی کم نہیں ہوا۔