حدثني إسحاق، اخبرنا حبان، اخبرنا جويرية بن اسماء، عن نافع، عن ابن عمر رضي الله عنهما: ان النبي صلى الله عليه وسلم حرق نخل بني النضير، قال:" ولها يقول حسان بن ثابت: وهان على سراة بني لؤي حريق بالبويرة مستطير قال: فاجابه ابو سفيان بن الحارث ادام الله ذلك من صنيع وحرق في نواحيها السعير ستعلم اينا منها بنزه وتعلم اي ارضينا تضير.
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو حبان نے خبر دی، انہیں جویریہ بن اسماء نے، انہیں نافع نے، انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کے باغات جلوا دیئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اسی کے متعلق یہ شعر کہا تھا (ترجمہ) ”بنو لوی (قریش) کے سرداروں نے بڑی آسانی کے ساتھ برداشت کر لیا۔ مقام بویرہ میں اس آگ کو جو پھیل رہی تھی۔“ بیان کیا کہ پھر اس کا جواب ابوسفیان بن حارث نے ان اشعار میں دیا۔ ”خدا کرے کہ مدینہ میں ہمیشہ یوں ہی آگ لگتی رہے اور اس کے اطراف میں یوں ہی شعلے اٹھتے رہیں۔ تمہیں جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ ہم میں سے کون اس مقام بویرہ سے دور ہے اور تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس کی زمین کو نقصان پہنچتا ہے۔“