كِتَاب الْمَغَازِي کتاب: غزوات کے بیان میں

حدثني عثمان، حدثنا عبدة، عن هشام، عن ابيه، عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: وقف النبي صلى الله عليه وسلم على قليب بدر، فقال:" هل وجدتم ما وعد ربكم حقا"، ثم قال:" إنهم الآن يسمعون ما اقول" , فذكر لعائشة، فقالت: إنما قال النبي صلى الله عليه وسلم:" إنهم الآن ليعلمون ان الذي كنت اقول لهم هو الحق" , ثم قرات إنك لا تسمع الموتى سورة النمل آية 80 حتى قرات الآية.

مجھ سے عثمان نے بیان کیا ‘ ہم سے عبدہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے کنویں پر کھڑے ہو کر فرمایا کیا جو کچھ تمہارے رب نے تمہارے لیے وعدہ کر رکھا تھا ‘ اسے تم نے سچا پا لیا؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کچھ میں کہہ رہا ہوں یہ اب بھی اسے سن رہے ہیں۔ اس حدیث کا ذکر جب عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ انہوں نے اب جان لیا ہو گا کہ جو کچھ میں نے ان سے کہا تھا وہ حق تھا۔ اس کے بعد انہوں نے آیت «إنك لا تسمع الوتى» بیشک آپ ان مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ پوری پڑھی۔

صحيح البخاري # 3981
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp