كِتَاب الْمَغَازِي کتاب: غزوات کے بیان میں

قالت: وذاك مثل قوله إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قام على القليب وفيه قتلى بدر من المشركين، فقال: لهم ما قال:" إنهم ليسمعون ما اقول" , إنما قال:" إنهم الآن ليعلمون ان ما كنت اقول لهم حق" ثم قرات إنك لا تسمع الموتى سورة النمل آية 80 , وما انت بمسمع من في القبور سورة فاطر آية 22 يقول: حين تبوءوا مقاعدهم من النار".

‏‏‏‏ انہوں نے کہا کہ اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے اس کنویں پر کھڑے ہو کر جس میں مشرکین کی لاشیں ڈال دی گئیں تھیں ‘ ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں ‘ یہ اسے سن رہے ہیں۔ تو آپ کے فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ اب انہیں معلوم ہو گیا ہو گا کہ ان سے میں جو کچھ کہہ رہا تھا وہ حق تھا۔ پھر انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی «إنك لا تسمع الموتى‏» آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔ «وما أنت بمسمع من في القبور‏» اور جو لوگ قبروں میں دفن ہو چکے ہیں انہیں آپ اپنی بات نہیں سنا سکتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ (آپ ان مردوں کو نہیں سنا سکتے) جو اپنا ٹھکانا اب جہنم میں بنا چکے ہیں۔

صحيح البخاري # 3979
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp