حدثني محمد بن عبد الله الرقاشي، حدثنا معتمر، قال: سمعت ابي، يقول: حدثنا ابو مجلز، عن قيس بن عباد، عن علي بن ابي طالب رضي الله عنه، انه قال:" انا اول من يجثو بين يدي الرحمن للخصومة يوم القيامة"، وقال قيس بن عباد: وفيهم انزلت هذان خصمان اختصموا في ربهم سورة الحج آية 19، قال: هم الذين تبارزوا يوم بدر حمزة , وعلي , وعبيدة , او ابو عبيدة بن الحارث , وشيبة بن ربيعة , وعتبة بن ربيعة , والوليد بن عتبة.
مجھ سے محمد بن عبداللہ رقاشی نے بیان کیا، ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابومجلز نے، ان سے قیس بن عباد نے اور ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قیامت کے دن میں سب سے پہلا شخص ہوں گا جو اللہ تعالیٰ کے دربار میں جھگڑا چکانے کے لیے دو زانو ہو کر بیٹھے گا۔ قیس بن عباد نے بیان کیا کہ انہیں حضرات (حمزہ، علی اور عبیدہ رضی اللہ عنہم) کے بارے میں سورۃ الحج کی یہ آیت نازل ہوئی تھی «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ”یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اللہ کے بارے میں لڑائی کی۔“ بیان کیا کہ یہ وہی ہیں جو بدر کی لڑائی میں لڑنے نکلے تھے، مسلمانوں کی طرف سے حمزہ، علی اور عبیدہ یا ابوعبیدہ بن حارث رضوان اللہ علیہم (اور کافروں کی طرف سے) شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ تھے۔