حدثني محمد بن المثنى، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن هشام، عن ابيه، عن عائشة، ان ابا بكر دخل عليها والنبي صلى الله عليه وسلم عندها يوم فطر او اضحى , وعندها قينتان تغنيان بما تقاذفت الانصار يوم بعاث، فقال ابو بكر:" مزمار الشيطان مرتين"، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" دعهما يا ابا بكر إن لكل قوم عيدا , وإن عيدنا هذا اليوم".
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے یہاں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہیں تشریف رکھتے تھے عیدالفطر یا عید الاضحی کا دن تھا، دو لڑکیاں یوم بعاث کے بارے میں وہ اشعار پڑھ رہی تھیں جو انصار کے شعراء نے اپنے فخر میں کہے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا یہ شیطانی گانے باجے! (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں) دو مرتبہ انہوں نے یہ جملہ دہرایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابوبکر! انہیں چھوڑ دو۔ ہر قوم کی عید ہوتی ہے اور ہماری عید آج کا یہ دن ہے۔“