كِتَاب مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ کتاب: انصار کے مناقب

حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا هشام، اخبرنا معمر، عن الزهري، حدثني عروة بن الزبير، ان عبيد الله بن عدي بن الخيار،اخبره دخلت على عثمان. ح وقال بشر بن شعيب، حدثني ابي، عن الزهري، حدثني عروة بن الزبير، ان عبيد الله بن عدي بن خيار اخبره، قال: دخلت على عثمان فتشهد، ثم قال:" اما بعد فإن الله بعث محمدا صلى الله عليه وسلم بالحق , وكنت ممن استجاب لله ولرسوله , وآمن بما بعث به محمد صلى الله عليه وسلم , ثم هاجرت هجرتين ونلت صهر رسول الله صلى الله عليه وسلم , وبايعته فوالله ما عصيته ولا غششته حتى توفاه الله". تابعه إسحاق الكلبي، حدثني الزهري مثله.

مجھ سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا، انہیں عبیداللہ بن عدی نے خبر دی کہ میں عثمان کی خدمت میں حاضر ہوا (دوسری سند) اور بشر بن شعیب نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے زہری نے کہا، مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور انہیں عبیداللہ بن عدی بن خیار نے خبر دی کہ میں عثمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے حمد و شہادت پڑھنے کے بعد فرمایا: امابعد! کوئی شک و شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا، میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر (ابتداء ہی میں) لبیک کہا اور میں ان تمام چیزوں پر ایمان لایا جنہیں لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے۔ پھر میں نے دو ہجرت کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دامادی کا شرف مجھے حاصل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے بیعت کی اللہ کی قسم کہ میں نے آپ کی نہ کبھی نافرمانی کی اور نہ کبھی آپ سے دھوکہ بازی کی، یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہو گیا۔ شعیب کے ساتھ اس روایت کی متابعت اسحاق کلبی نے بھی کی ہے، ان سے زہری نے اس حدیث کو اسی طرح بیان کیا۔

صحيح البخاري # 3927
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp