حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا الاوزاعي، وقال محمد بن يوسف، حدثنا الاوزاعي، حدثنا الزهري، قال:حدثني عطاء بن يزيد الليثي، قال: حدثني ابو سعيد رضي الله عنه، قال: جاء اعرابي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فساله عن الهجرة، فقال:" ويحك إن الهجرة شانها شديد فهل لك من إبل"، قال: نعم، قال:" فتعطي صدقتها"، قال: نعم، قال:" فهل تمنح منها"، قال: نعم، قال:" فتحلبها يوم ورودها؟" قال: نعم، قال:" فاعمل من وراء البحار , فإن الله لن يترك من عملك شيئا".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم دمشقی نے بیان کیا، کہا ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، (دوسری سند) اور محمد بن یوسف نے بیان کیا کہ ہم سے امام اوزاعی نے بیان کیا، کہا مجھ سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عطاء بن یزید لیثی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہا کہ ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کا حال پوچھنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تجھ پر افسوس! ہجرت تو بہت مشکل ہے۔ تمہارے پاس کچھ اونٹ بھی ہیں؟“ اس نے کہا جی ہاں ہیں۔ فرمایا ”تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو؟“ اس نے عرض کیا جی ہاں ادا کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اونٹنیوں کا دودھ دوسرے (محتاجوں) کو بھی دوہنے کے لیے دے دیا کرتے ہو؟“ اس نے عرض کیا کہ ایسا بھی کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انہیں گھاٹ پر لے جا کر (محتاجوں کے لیے) دوہتے ہو؟“ اس نے عرض کیا ایسا بھی کرتا ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر تم سات سمندر پار عمل کرو، اللہ تعالیٰ تمہارے کسی عمل کا بھی ثواب کم نہیں کرے گا۔“