حدثنا عياش بن الوليد، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثني الاوزاعي، حدثني يحيى بن ابي كثير، عن محمد بن إبراهيم التيمي، قال:حدثني عروة بن الزبير، قال: سالت ابن عمرو بن العاص، اخبرني باشد شيء صنعه المشركون بالنبي صلى الله عليه وسلم، قال:" بينا النبي صلى الله عليه وسلم يصلي في حجر الكعبة إذ اقبل عقبة بن ابي معيط , فوضع ثوبه في عنقه , فخنقه خنقا شديدا , فاقبل ابو بكر حتى اخذ بمنكبه ودفعه عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال اتقتلون رجلا ان يقول ربي الله سورة غافر آية 28 الآية. تابعه ابن إسحاق، حدثني يحيى بن عروة، عن عروة، قلت لعبد الله بن عمرو. وقال عبدة، عن هشام، عن ابيه، قيل لعمرو بن العاص، وقال محمد بن عمرو: عن ابي سلمة، حدثني عمرو بن العاص.
ہم سے عیاش بن ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے محمد بن ابراہیم تیمی نے بیان کیا کہ مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ مجھے مشرکیں کے سب سے سخت ظلم کے متعلق بتاؤ جو مشرکین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حطیم میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ بن ابی معیط آیا اور ظالم اپنا کپڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مبارک میں پھنسا کر زور سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھونٹنے لگا اتنے میں ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آ گئے اور انہوں نے اس بدبخت کا کندھا پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اسے ہٹا دیا اور کہا کہ تم لوگ ایک شخص کو صرف اس لیے مار ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے الآیۃ۔ عیاش بن ولید کے ساتھ اس روایت کی متابعت ابن اسحاق نے کی (اور بیان کیا کہ) مجھ سے یحییٰ بن عروہ نے بیان کیا اور ان سے عروہ نے کہ میں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے پوچھا اور عبدہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا گیا اور محمد بن عمرو نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ نے، اس میں یوں ہے کہ مجھ سے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔