وعن قيس عن جرير بن عبد الله، قال: كان في الجاهلية بيت، يقال له: ذو الخلصة وكان، يقال له: الكعبة اليمانية او الكعبة الشامية، فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم:" هل انت مريحي من ذي الخلصة؟"، قال: فنفرت إليه في خمسين ومائة فارس من احمس، قال: فكسرنا وقتلنا من وجدنا عنده , فاتيناه فاخبرناه , فدعا لنا ولاحمس".
اور قیس سے روایت ہے کہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا زمانہ جاہلیت میں ”ذوالخلصہ“ نامی ایک بت کدہ تھا اسے «الكعبة اليمانية» یا «الكعبة الشأمية» بھی کہتے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ”ذی الخلصہ کے وجود سے میں جس اذیت میں مبتلا ہوں، کیا تم مجھے اس سے نجات دلا سکتے ہو؟“ انہوں نے بیان کیا کہ پھر قبیلہ احمس کے ڈیڑھ سو سواروں کو میں لے کر چلا، انہوں نے بیان کیا اور ہم نے بت کدے کو ڈھا دیا اور اس میں جو تھے ان کو قتل کر دیا، پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ نے ہمارے لیے اور قبیلہ احمس کے لیے دعا فرمائی۔