قال ابو عبد الله، وحدثني سليمان بن عبد الرحمن، حدثنا الوليد بن مسلم، حدثنا عبد الرحمن بن نمر، عن الزهري، حدثني حرملة مولى اسامة بن زيد، انه بينما هو مع عبد الله بن عمر إذ دخل الحجاج بن ايمن فلم يتم ركوعه ولا سجوده، فقال: اعد , فلما ولى، قال لي ابن عمر:" من هذا"، قلت: الحجاج بن ايمن بن ام ايمن، فقال ابن عمر:" لو راى هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم لاحبه". فذكر حبه وما ولدته ام ايمن، قال: وحدثني بعض اصحابي , عن سليمان، وكانت حاضنة النبي صلى الله عليه وسلم.
ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ مجھ سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن نمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے مولیٰ حرملہ نے بیان کیا کہ وہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھے کہ حجاج بن ایمن (مسجد کے) اندر آئے نہ انہوں نے رکوع پوری طرح ادا کیا تھا اور نہ سجدہ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا کہ نماز دوبارہ پڑھ لو۔ پھر جب وہ جانے لگے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ میں نے عرض کیا حجاج بن ایمن ابن ام ایمن ہیں۔ اس پر آپ نے کہا اگر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھتے تو بہت عزیز رکھتے، پھر آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اسامہ رضی اللہ عنہ اور ام ایمن رضی اللہ عنہا کی تمام اولاد سے محبت کا ذکر کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھ سے میرے بعض اساتذہ نے بیان کیا اور ان سے سلیمان نے کہ ام ایمن رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گود لیا تھا۔