حدثنا محمد بن رافع، حدثنا حسين، عن زائدة، عن ابي حصين، عن سعد بن عبيدة، قال: جاء رجل إلى ابن عمر فساله عن عثمان فذكر عن محاسن عمله، قال: لعل ذاك يسوءك، قال: نعم، قال: فارغم الله بانفك ثم ساله عن علي فذكر محاسن عمله، قال: هو ذاك بيته اوسط بيوت النبي صلى الله عليه وسلم، ثم قال: لعل ذاك يسوءك، قال: اجل، قال: فارغم الله بانفك انطلق فاجهد علي جهدك".
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین نے، ان سے زائدۃ نے، ان سے ابوحصین نے، ان سے سعد بن عبیدہ نے بیان کیا کہ ایک شخص عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں آیا اور عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کے محاسن کا ذکر کیا، پھر کہا کہ شاید یہ باتیں تمہیں بری لگی ہوں گی، اس نے کہا جی ہاں، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے پھر اس نے علی رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا، انہوں نے ان کے بھی محاسن ذکر کئے اور کہا کہ علی رضی اللہ عنہ کا گھرانہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کا نہایت عمدہ گھرانہ ہے، پھر کہا شاید یہ باتیں بھی تمہیں بری لگی ہوں گی، اس نے کہا کہ جی ہاں، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بولے اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے، جا، اور میرا جو بگاڑنا چاہے بگاڑ لینا، کچھ کمی نہ کرنا۔