حدثنا عبدان، اخبرنا عبد الله، عن يونس، عن الزهري، قال: اخبرني ابن المسيب، سمع ابا هريرة رضي الله عنه، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول:" بينا انا نائم رايتني على قليب عليها دلو فنزعت منها ما شاء الله، ثم اخذها ابن ابي قحافة فنزع بها ذنوبا او ذنوبين وفي نزعه ضعف والله يغفر له ضعفه، ثم استحالت غربا فاخذها ابن الخطاب فلم ار عبقريا من الناس ينزع نزع عمر حتى ضرب الناس بعطن".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں یونس نے، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو ابن المسیب نے خبر دی اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سو رہا تھا کہ خواب میں میں نے اپنے آپ کو ایک کنویں پر دیکھا جس پر ڈول تھا۔ اللہ تعالیٰ نے جتنا چاہا میں نے اس ڈول سے پانی کھینچا، پھر اسے ابن ابی قحافہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) نے لے لیا اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچے، ان کے کھینچنے میں کچھ کمزوری سی معلوم ہوئی اللہ ان کی اس کمزوری کو معاف فرمائے۔ پھر اس ڈول نے ایک بہت بڑے ڈول کی صورت اختیار کر لی اور اسے عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) نے اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ میں نے ایسا شہ زور پہلوان آدمی نہیں دیکھا جو عمر (رضی اللہ عنہ) کی طرح ڈول کھینچ سکتا۔ انہوں نے اتنا پانی نکالا کہ لوگوں نے اپنے اونٹوں کو حوض سے سیراب کر لیا۔