فقالت: ما كنت لافشي سر رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى قبض النبي صلى الله عليه وسلم فسالتها، فقالت: اسر إلي إن جبريل كان يعارضني القرآن كل سنة مرة وإنه عارضني العام مرتين ولا اراه إلا حضر اجلي وإنك اول اهل بيتي لحاقا بي فبكيت، فقال: اما ترضين ان تكوني سيدة نساء اهل الجنة او نساء المؤمنين فضحكت لذلك".
تو انہوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے کان میں کہا تھا کہ جبرائیل علیہ السلام ہر سال قرآن مجید کا ایک دور کیا کرتے تھے، لیکن اس سال انہوں نے دو مرتبہ دور کیا ہے، مجھے یقین ہے کہ اب میری موت قریب ہے اور میرے گھرانے میں سب سے پہلے مجھ سے آ ملنے والی تم ہو گی۔ میں (آپ کی اس خبر پر) رونے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اس پر راضی نہیں کہ جنت کی عورتوں کی سردار بنو گی یا (آپ نے فرمایا کہ) مومنہ عورتوں کی، تو اس پر میں ہنسی تھی۔