حدثنا ابو نعيم، حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة بن الماجشون، عن عبد الرحمن بن ابي صعصعة، عن ابيه، عن ابي سعيد الخدريرضي الله عنه، قال: قال لي: إني اراك تحب الغنم وتتخذها فاصلحها واصلح رعامها فإني، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم، يقول:" ياتي على الناس زمان تكون الغنم فيه خير مال المسلم يتبع بها شعف الجبال او سعف الجبال في مواقع القطر يفر بدينه من الفتن".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ بن ماجشون نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی صعصعہ نے، ان سے ان کے والد نے کہا، ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں بکریوں سے بہت محبت ہے اور تم انہیں پالتے ہو تو تم ان کی نگہداشت اچھی کیا کرو اور ان کی ناک کی صفائی کا بھی خیال رکھا کرو۔ کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ مسلمان کا سب سے عمدہ مال اس کی بکریاں ہوں گی جنہیں لے کر وہ پہاڑ کی چوٹیوں پر چڑھ جائے گا یا (آپ نے «سعف الجبال» کے لفظ فرمائے) وہ بارش گرنے کی جگہ میں چلا جائے گا۔ اس طرح وہ اپنے دین کو فتنوں سے بچانے کے لیے بھاگتا پھرے گا۔