حدثني ابن بكير، قال: حدثني الليث، عن خالد، عن سعيد بن ابي هلال، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، قال: سمعت انس بن مالكيصف النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" كان ربعة من القوم ليس بالطويل ولا بالقصير، ازهر اللون ليس بابيض امهق، ولا آدم ليس بجعد قطط ولا سبط رجل انزل عليه وهو ابن اربعين فلبث بمكة عشر سنين ينزل عليه، وبالمدينة عشر سنين وقبض وليس في راسه ولحيته عشرون شعرة بيضاء، قال ربيعة: فرايت شعرا من شعره فإذا هو احمر فسالت، فقيل: احمر من الطيب".
مجھ سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا، ان سے خالد نے، ان سے سعید بن ابی ہلال نے، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف مبارکہ بیان کرتے ہوئے بتلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانہ قد کے تھے۔ نہ بہت لمبے اور نہ چھوٹے قد والے۔ رنگ کھلتا ہوا تھا (سرخ و سفید) نہ خالی سفید تھے اور نہ بالکل گندم گوں۔ آپ کے بال نہ بالکل مڑے ہوئے سخت قسم کے تھے اور نہ سیدھے لٹکے ہوئے ہی تھے۔ نزول وحی کے وقت آپ کی عمر چالیس سال تھی۔ مکہ میں آپ نے دس سال تک قیام فرمایا اور اس پورے عرصہ میں آپ پر وحی نازل ہوتی رہی اور مدینہ میں بھی آپ کا قیام دس سال تک رہا۔ آپ کے سر اور داڑھی میں بیس بال بھی سفید نہیں ہوئے تھے۔ ربیعہ (راوی حدیث) نے بیان کیا کہ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بال دیکھا تو وہ لال تھا میں نے اس کے متعلق پوچھا تو مجھے بتایا گیا کہ خوشبو لگاتے لگاتے لال ہو گیا ہے۔