حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، حدثني محمد بن بشار، حدثنا ابن مهدي، عن سفيان، عن عبد الملك بن عمير، عن عبد الرحمن بن ابي بكرة، عن ابيه، قال النبي صلى الله عليه وسلم:" ارايتم إن كان جهينة، ومزينة، واسلم، وغفار خيرا من بني تميم، وبني اسد ومن بني عبد الله بن غطفان ومن بني عامر بن صعصعة، فقال: رجل خابوا وخسروا، فقال هم خير من بني تميم، ومن بني اسد، ومن بني عبد الله بن غطفان، ومن بني عامر بن صعصعة".
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عبدالملک بن عمیر نے، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بتاؤ کیا جہینہ، مزینہ، اسلم اور غفار کے قبیلے بنی تمیم، بنی اسد، بنی عبداللہ بن غطفان اور بنی عامر بن صعصعہ کے مقابلے میں بہتر ہیں؟“ ایک شخص (اقرع بن حابس) نے کہا کہ وہ تو تباہ و برباد ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یہ چاروں قبیلے بنو تمیم، بنو اسد، بنو عبداللہ بن غطفان اور بنو عامر بن صعصعہ کے قبیلوں سے بہتر ہیں۔