حدثنا ابو الوليد، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن عقبة بن عبد الغافر، عن ابي سعيد رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم:" ان رجلا كان قبلكم رغسه الله مالا، فقال: لبنيه لما حضر اي اب كنت لكم، قالوا: خير اب، قال: فإني لم اعمل خيرا قط فإذا مت فاحرقوني ثم اسحقوني ثم ذروني في يوم عاصف ففعلوا فجمعه الله عز وجل فقال: ما حملك، قال: مخافتك، فتلقاه برحمته، وقال معاذ، حدثنا شعبة، عن قتادة سمعت عقبة بن عبد الغافر، سمعت ابا سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے ان سے عقبہ بن عبدالغافر نے ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ گزشتہ امتوں میں ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ نے خوب دولت دی تھی۔ جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں سے پوچھا میں تمہارے حق میں کیسا باپ ثابت ہوا؟ بیٹوں نے کہا کہ آپ ہمارے بہترین باپ تھے۔ اس شخص نے کہا لیکن میں نے عمر بھر کوئی نیک کام نہیں کیا۔ اس لیے جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا ڈالنا، پھر میری ہڈیوں کو پیس ڈالنا اور (راکھ کو) کسی سخت آندھی کے دن ہوا میں اڑا دینا۔ بیٹوں نے ایسا ہی کیا۔ لیکن اللہ پاک نے اسے جمع کیا اور پوچھا کہ تو نے ایسا کیوں کیا؟ اس شخص نے عرض کیا کہ پروردگار تیرے ہی خوف سے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے سایہ رحمت میں جگہ دی۔ اس حدیث کو معاذ عنبری نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، انہوں نے عقبہ بن عبدالغافر سے سنا، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔