حدثنا عبد الله بن محمد بن اسماء هو ابن اخي جويرية، حدثنا جويرية بن اسماء، عن مالك، عن الزهري، ان سعيد بن المسيب وابا عبيد اخبراه، عن ابي هريرة رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" يرحم الله لوطا لقد كان ياوي إلى ركن شديد ولو لبثت في السجن ما لبث يوسف ثم اتاني الداعي لاجبته".
ہم سے عبداللہ بن محمد بن اسماء ابن اخی جویریہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا ‘ ان سے مالک نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ ان کو سعید بن مسیب اور ابوعبیدہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ لوط علیہ السلام پر رحم فرمائے کہ وہ زبردست رکن (یعنی اللہ تعالیٰ) کی پناہ لیتے تھے اور اگر میں اتنی مدت تک قید رہتا جتنی یوسف علیہ السلام رہے تھے اور پھر میرے پاس (بادشاہ کا آدمی) بلانے کے لیے آتا تو میں فوراً اس کے ساتھ چلا جاتا۔“