حدثنا محمد بن مسكين ابو الحسن، حدثنا يحيى بن حسان بن حيان ابو زكرياء، حدثنا سليمان، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمررضي الله عنهما، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم:" لما نزل الحجر في غزوة تبوك امرهم ان لا يشربوا من بئرها ولا يستقوا منها، فقالوا: قد عجنا منها واستقينا فامرهم ان يطرحوا ذلك العجين ويهريقوا ذلك الماء"، ويروى عن سبرة بن معبد، وابي الشموس، ان النبي صلى الله عليه وسلم امر بإلقاء الطعام، وقال ابو ذر، عن النبي صلى الله عليه وسلم من اعتجن بمائه.
ہم سے محمد بن مسکین ابوالحسن نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن حسان بن حیان ابوزکریا نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حجر (ثمود کی بستی) میں غزوہ تبوک کے لیے جاتے ہوئے پڑاؤ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو حکم فرمایا کہ یہاں کے کنوؤں کا پانی نہ پینا اور نہ اپنے برتنوں میں ساتھ لینا۔ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ ہم نے تو اس سے اپنا آٹا بھی گوندھ لیا ہے اور پانی اپنے برتنوں میں بھی رکھ لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ گندھا ہوا آٹا پھینک دیا جائے اور ابوذر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ جس نے آٹا اس پانی سے گوندھ لیا ہو (وہ اسے پھینک دے)۔