كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ کتاب: انبیاء علیہم السلام کے بیان میں

حدثنا إسحاق بن إبراهيم سمع المعتمر، عن عبيد الله، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة رضي الله عنه، قال: قيل للنبي صلى الله عليه وسلم" من اكرم الناس، قال: اكرمهم اتقاهم، قالوا: يا نبي الله ليس عن هذا نسالك، قال: فاكرم الناس يوسف نبي الله ابن نبي الله ابن نبي الله ابن خليل الله، قالوا: ليس عن هذا نسالك، قال: فعن معادن العرب تسالوني، قالوا: نعم، قال: فخياركم في الجاهلية خياركم في الإسلام إذا فقهوا".

ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم نے معتمر بن سلیمان سے سنا ‘ انہوں نے عبداللہ عمری سے ‘ انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبری سے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: سب سے زیادہ شریف کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو سب سے زیادہ متقی ہو ‘ وہ سب سے زیادہ شریف ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر سب سے زیادہ شریف یوسف نبی اللہ بن نبی اللہ (یعقوب) بن نبی اللہ (اسحاق) بن خلیل اللہ (ابراہیم علیہ السلام) تھے۔ صحابہ نے عرض کیا: ہمارے سوال کا مقصد یہ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم لوگ عرب کے شرفاء کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر جاہلیت میں جو لوگ شریف اور اچھے عادات و اخلاق کے تھے وہ اسلام لانے کے بعد بھی شریف اور اچھے سمجھے جائیں گے جب کہ وہ دین کی سمجھ بھی حاصل کریں۔

صحيح البخاري # 3374
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp