كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ کتاب: اس بیان میں کہ مخلوق کی پیدائش کیونکر شروع ہوئی

حدثنا مسدد، حدثنا حماد بن زيد، عن كثير، عن عطاء، عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما رفعه، قال:" خمروا الآنية، واوكوا الاسقية، واجيفوا الابواب، واكفتوا صبيانكم عند العشاء، فإن للجن انتشارا وخطفة، واطفئوا المصابيح عند الرقاد، فإن الفويسقة ربما اجترت الفتيلة فاحرقت اهل البيت، قال: ابن جريج وحبيب، عن عطاء فإن للشياطين.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے کثیر نے، ان سے عطاء نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پانی کے برتنوں کو ڈھک لیا کرو، مشکیزوں (کے منہ) کو باندھ لیا کرو، دروازے بند کر لیا کرو اور اپنے بچوں کو اپنے پاس جمع کر لیا کرو، کیونکہ شام ہوتے ہی جنات (روئے زمین پر) پھیلتے ہیں اور اچکتے پھرتے ہیں اور سوتے وقت چراغ بجھا لیا کرو، کیونکہ موذی جانور (چوہا) بعض اوقات جلتی بتی کو کھینچ لاتا ہے اور اس طرح سارے گھر کو جلا دیتا ہے۔ ابن جریج اور حبیب نے بھی اس کو عطاء سے روایت کیا، اس میں جنات کے بدل شیاطین مذکور ہیں۔

صحيح البخاري # 3316
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp