كِتَاب الْحَيْضِ کتاب: حیض کے احکام و مسائل

حدثنا عبد الله بن محمد، قال: حدثنا سفيان، عن هشام، عن ابيه، عن عائشة، ان فاطمة بنت ابي حبيش كانت تستحاض، فسالت النبي صلى الله عليه وسلم، فقال:" ذلك عرق وليست بالحيضة، فإذا اقبلت الحيضة فدعي الصلاة، وإذا ادبرت فاغتسلي وصلي".

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ہشام بن عروہ سے، وہ اپنے باپ سے، وہ عائشہ سے کہ فاطمہ بنت ابی حبیش کو استحاضہ کا خون آیا کرتا تھا۔ تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رگ کا خون ہے اور حیض نہیں ہے۔ اس لیے جب حیض کے دن آئیں تو نماز چھوڑ دیا کر اور جب حیض کے دن گزر جائیں تو غسل کر کے نماز پڑھ لیا کر۔

صحيح البخاري # 320
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp