كِتَاب الْحَيْضِ کتاب: حیض کے احکام و مسائل

حدثنا إبراهيم بن موسى، قال: اخبرنا هشام بن يوسف، ان ابن جريج اخبرهم، قال: اخبرني هشام بن عروة، عن عروة، انه سئل اتخدمني الحائض او تدنو مني المراة وهي جنب؟ فقال عروة: كل ذلك علي هين، وكل ذلك تخدمني وليس على احد في ذلك باس، اخبرتني عائشة" انها كانت ترجل تعني راس رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي حائض، ورسول الله صلى الله عليه وسلم حينئذ مجاور في المسجد يدني لها راسه وهي في حجرتها، فترجله وهي حائض".

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ابن جریج نے انہیں خبر دی، انہوں نے کہا مجھے ہشام بن عروہ نے عروہ کے واسطے سے بتایا کہ ان سے سوال کیا گیا، کیا حائضہ بیوی میری خدمت کر سکتی ہے، یا ناپاکی کی حالت میں عورت مجھ سے نزدیک ہو سکتی ہے؟ عروہ نے فرمایا میرے نزدیک تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس طرح کی عورتیں میری بھی خدمت کرتی ہیں اور اس میں کسی کے لیے بھی کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حائضہ ہونے کی حالت میں کنگھا کیا کرتی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں معتکف ہوتے۔ آپ اپنا سر مبارک قریب کر دیتے اور عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے حجرہ ہی سے کنگھا کر دیتیں، حالانکہ وہ حائضہ ہوتیں۔

صحيح البخاري # 296
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp